This is default featured slide 1 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 2 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 3 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 4 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 5 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

Wednesday, 5 November 2014

سراج الحق نومنتخب امیرجماعت اسلامی پاکستان

سراج الحق نومنتخب امیرجماعت اسلامی پاکستان


  1. جماعت اسلامی کے نومنتخب امیر سراج الحق کا آبائی تعلق دیر سے ہے، تاہم پیدائش 5 اپریل 1962ءکو خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ، تحصیل شبقدر کے گاﺅں ”میرزو“ میں ہوئی۔ آپ کے والد عالم دین اور مدرسے کے مہتمم تھے۔ آپ نے میرزو ہی کے گورنمنٹ ہائی سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ بعدازاں دیر کے مختلف سکولوں میں زیرتعلیم رہے۔ گورنمنٹ ہائی سکول تیمرگرہ سے مڈل، جبکہ گورنمنٹ ہائی اسکول لال قلعہ میدان دیر سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔
    سراج الحق کو یہ اعزاز حاصل رہا کہ آٹھویں جماعت میں ہی کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ کی ملک گیر تنظیم ”اسلامی جمعیت طلبہ“ کے رکن بن گئے تھے۔ میٹرک کے طالب علم تھے تو انھیں اسلامی جمعیت طلبہ ملاکنڈڈویژن کا ناظم مقرر کردیا گیا۔ انہیں جمعیت کے ساتھ متعارف کرانے والے رحیم اللہ ایڈووکیٹ تھے، جو اَب تک حیات ہیں۔ سراج الحق نے گورنمنٹ ڈگری کالج تیمرگرہ سے بارھویں جماعت کا امتحان پاس کیا۔بعدازاں تنظیمی ذمہ داریوں کی وجہ سے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مردان اور گورنمنٹ کالج پشاور میں زیر تعلیم رہے، تاہم بی اے کا امتحان گورنمنٹ کالج تیمر گرہ سے دیا اور کامیاب ہوئے۔ انھوں نے پشاور یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کیا اور وہیں سے بی ایڈ کی ڈگری حاصل کی، جبکہ پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم ایڈ کا امتحان پاس کیا۔ اسلامی جمعیت طلبہ میں مختلف ذمہ داریوں پر فائز رہے۔ ناظم مالاکنڈ ڈویژن، تین سال تک ناظم صوبہ خیبر پختونخوا اور پھر 1989ءسے 1991ءتک بطورِ ناظم اعلیٰ خدمات انجام دیں۔
    ”اسلامی جمعیت طلبہ“ سے فراغت کے فوری بعد سراج الحق کل وقتی کارکن کے طور پر جماعت اسلامی سے منسلک ہوگئے اور ایک سال سے زائد عرصے تک اپنے علاقے میں کام کیا۔ انہوں نے اقرا سکول ثمرباغ میں بطورِ پرنسپل فرائض انجام دیے۔ ساتھ ہی تحریکی کاموںمیں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے اور ایک سال کے اندر ہی جماعت اسلامی کے باقاعدہ رکن بن گئے۔ بعد ازاں خیبر پختونخوا میں بطورِ قیم (سیکرٹری جنرل) ذمہ داری رہی، جبکہ 2003ءمیں جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر بنے اور یہ گراں بار ذمہ داری احسن انداز میں نبھائی۔ ایک موقع پر صوبائی امارت اور وزارت میں انتخاب کا مرحلہ آیا تو آپ نے وزارت کے بجائے جماعت میں خدمات انجام دینے کو ترجیح دےنے کی شاندار مثال قائم کی۔ اپریل 2009ءمیں انھیں امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن نے مرکزی نائب امیر مقرر کیا۔ اس ذمہ داری کو بھی انھوں نے بخوبی انجام دیا۔ مارچ 2014 ء میں جماعت اسلامی کے ارکان نے آپ کو 5 سال کے لیے امیرجماعت منتخب کیا ہے
    متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے سراج الحق اپنی درویشانہ اور سادگی پسند طبیعت اور مجاہدانہ اوصاف کی بدولت تحریکی اور عوامی حلقوں میں کافی مقبول ہیں۔ اکتوبر 2002ءکے انتخابات میں دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے خیبر پختونخوا میں کامیابی حاصل کی تو انھوں نے صوبائی حکومت میں بطورِ سینئر وزیر اور وزیر خزانہ خدمات انجام دیں اور اپنوں اور غیروں سے اپنی صلاحیت وقابلیت اور امانت و دیانت کا لوہا منوایا۔ ان کی قیادت میں جماعت اسلامی کے 6 دیگر وزرا نے بھی مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور یوں سیاسی میدان میں بھی وہ ایک بہترین ٹیم لیڈر کے طور پر سامنے آئے۔ متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت میں ادا کیے گئے اس کردار کے اپنے بیگانے سب معترف ہیں۔ کئی غیرملکی اداروں نے بھی اپنی سروے رپورٹوں میں ان کی بہترین کارکردگی کو سراہا۔ 2013ءکے انتخابات کے بعد خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی مخلوط قائم ہوئی تو سینئروزیر اور وزیر خزانہ کے لیے نظر انتخاب انھی پر ٹھہری اور اس عرصے میں بھی انھوں نے بخوبی ذمہ داری نبھائی۔ دونوں ادوار میں بطور وزیر ان کا دروازہ ہر خاص و عام کے لیے کھلا رہا۔ بلا تفریق مذہب و مسلک اور سیاسی وابستگی کے کوئی بھی ان سے مل سکتا تھا۔ اسی لیے ان کی شخصیت ہردلعزیز رہی۔ انھوں نے سول سیکرٹریٹ میں خود خطبہ جمعہ اور نمازوں کی امامت کرواکر ایک اور مثال قائم کی۔
    سراج الحق دو دفعہ صوبائی وزیر خزانہ رہے، مگر انھوں نے قومی خزانے کو قومی امانت سمجھا۔ حکومتی وزیر کے طور پر اندرون و بیرون ملک انھوں نے ایک نئی ریت ڈالی اور ان دورہ جات میں ہوٹلوں کے بےتحاشا سرکاری اخراجات چھوڑ کر اسلامک سینٹرز میں رہنا پسند کیا۔ اندرون ملک بغیر کسی پروٹوکول کے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر ان کی خاصیت رہی۔ بطور وزیر انھوں نے سرکاری رہائش گاہ کا استعمال نہیں کیا اور اس وقت بھی پشاور میں کرائے کے مکان میں رہتے ہیں۔ گائوں میں خاندانی گھر کے علاوہ ان کی کوئی جائیداد نہیں ہے۔ وہ اپنی ذاتی گاڑی کے مالک بھی نہیں ہیں۔ سراج الحق کی والدہ حیات ہیں، 3 بھائی اور 2 بہنیں ہیں۔ والدہ اور بھائی آبائی مکان میں ایک ساتھ رہائش پذیر ہیں۔ ان کے 4 بیٹے اور 2 بیٹیاں ہیں۔ بڑا بیٹا معراج الحق بارھویں جماعت کا طالب علم اور اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ ہے۔
    سراج الحق اردو، پشتو، انگریزی، فارسی، عربی اور دیگر زبانوں پر دسترس رکھتے ہیں۔ اردو اور پشتو میں آپ کی تقاریرعوامی حلقوں میں پسند کی جاتی ہیں۔ آپ جماعت اسلامی اور صوبائی حکومت کی طرف سے مشرق وسطیٰ اورکئی یورپی ممالک کا دورہ کرچکے ہیں۔ آپ کی صلاحیتوں اوراہم دینی و سیاسی حیثیت کی بدولت دنیا بھر سے آپ کو عالمی کانفرنسوں میں مدعو کیا جاتا رہا ہے۔

سانحہ واہگہ بارڈر پر ہرپاکستانی غمزدہ ہے۔پولیس کو جدید تربیت اورٹیکنالوجی سے لیس کیاجائے۔سراج الحق

ور3نومبر2014ء:جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ سانحہ واہگہ پر ہر پاکستانی غمزدہ ہے ۔ ملک کی اندرونی سیکورٹی کو درپیش سنگین خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے چاروں صوبوں میں پولیس فورس کو جدیدخطوط پر منظم کرنے اورانہیں ہرقسم کےسازوسامان اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کی ضرورت ہے ۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی یہ نہ بھولیں کہ پاک سرزمین کے دفاع کے لئے پوری قوم اپنی مسلح افواج کی پشت پرسیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے ۔ بھارت کویہ جان لینا چاہیے کہ کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت دئیے بغیر بات نہیں بنے گی ۔  شیعہ اور سنی علمائے کرام اور ذاکرین اسلام کے دشمنوں کی سازشوں کو سمجھیں جو ہمیں فرقوں کی بنیاد پر باہم متصادم کرکے مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنے کے درپے ہیں۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے پیر کے روز اپنے حلقہ نیابت یونین کونسل منڈہ، خزانہ اور میاں کلی میں عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید اور جماعت اسلامی کے ممبر قومی اسمبلی صاحبزادہ یعقوب خان بھی اُن کے ہمراہ تھے۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نےہائیر سیکنڈری سکول خزانہ اور ہائی سکول گودر اور منڈہ میں سنٹیشن سکیم کا بھی افتتاح کیا۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کو اللہ تعالی کے فضل وکرم اور عوام کی تائید و حمایت سے مختصر عرصے میں ملک کی سب سے بڑی اور عوامی مقبولیت کی حامل سیاسی قوت بنا دینگے۔ انہوں نے کہاکہ صوبہ سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے حالیہ دوروں میں عوام نے جس انداز میں اور بڑے پیمانے پر جماعت اسلامی کے جلسوں میں شرکت کی اس سے جماعت اسلامی کونئی قوت ملی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی اچھی شہرت اور عوامی حمایت کے حامل سیاسی و سماجی رہنماﺅں اور علمائے کرام اور مشتائخ عظام کو بڑے پیمانے پر جماعت اسلامی میں شامل کرنے اور انہیں ان کے شایان شان مقام دینے کے لئے منصوبہ بندی کرر ہی ہے اور انشاءاللہ تعالی مستقبل میں جب بھی انتخابات ہونگے جماعت اسلامی ملک کی ایک بڑی پارلیمانی قوت کے طور پر سامنے آئیگی ۔ انہوں نے کہاکہ 21نومبر کو مینار پاکستان لاہور سے ایک مرتبہ پھر عظیم الشان تحریک کا دوبارہ آغازکرینگے اور قائد اعظم محمد علی جناح کے وژن کے مطابق پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی ، فلاحی اور جمہوری ریاست بنا کر دم لیںگے جسمیں اقلیتوں سمیت زندگی کے ہر طبقے کے لوگوں کوان کےحقوق ملیں گے ۔ ظلم ، جبر اور استحصال کا خاتمہ ہوگا جس میں غریب سکھ کا سانس لیں گے ۔ مہنگائی اور بے روز گاری کا خاتمہ ہوگا۔ نوجوانوں کے مسائل اور خواتین کی ترقی کے لئے اقدامات کرینگے۔

دھونس دھاندلی اور زر وزور کی 67سالہ یرغمال سیاست نے قوم کو محرومیوں اور مایوسیوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔

پشاور4نومبر2014ء:امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک میں حقیقی جمہوریت کیلئے ایسے انقلابی جدوجہد کی ضرورت ہے کہ زر اور زور کی بنیاد پر 67سالہ یرغمال سیاست اور جمہوریت کوآزاد کرایا جاسکے ۔ناقص الیکشن نظام کی وجہ سے عوام کا بیلٹ اور بیلٹ بکس سے اعتماد اٹھتا جارہا ہے اور منتخب ادارے قومی اسمبلی اپنی افادیت کھورہے ہیں ،ملک سے باہر مقیم سیاست دان پاکستان کی بجائے برطانیہ اور امریکہ کے ایجنڈے پر عمل تو کرسکتے ہیں مگر پاکستان کو خوشحالی اور ترقی کے راستے پر نہیں ڈال سکتے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے لوئر دیر میں بلامبٹ ،کمبٹ ،مایار ازغر اور مسکینی میں عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید ۔رکن قومی اسمبلی صاحب زادہ یعقوب خان نے بھی خطاب کیا ،امیر جماعت اسراج الحق نے کمبٹ میں ہایئر سیکنڈری سکول کمبٹ کا افتتاح بھی کیا ۔جماعت اسلامی صوبہ خیبر پختونخوا کی میڈیا سیل کے مطابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بحرانوں کا حل سیاست دانوں کو خود تلاش کرنا ہوگا اور سیاسی پارٹیوں کو بھی عام آدمی کا ایجنڈا بنانا ہوگا انہوںنے کہا کہ دھونس دھاندلیوں کی سیاست اورالیکشن سسٹم سے عوام بیلٹ اور بکس سے اکتا چکے ہیں اور عوام کا اعتماد ختم ہونے کو ہے انہوں نے کہا کہ سیاست دانوںکو ملک کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے خود اپنے مفادات سے بالا تر ہوکر دیرپا حل تلاش کرنے کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا اور سیاسی پارٹیوں کو عوام کے مسائل کے حل کیلئے عام آدمی کا ایجنڈا بنانا ہوگا ۔انہوں نے کہا پرامن اور جمہوری جدوجہد کے ذرئعے ہی ملک کو مزید حادثات سے بچایا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ملک وقوم کو مٹھی بھر اشرافیہ سے نجات کیلئے ملک میں ایک حقیقی جمہوریت کیلئے انقلابی جدوجہد شروع کیجائے اور زر و زر کی بنیاد پر سیاست اور جمہوریت کو یرغمال بنانے والوں سے نجات دلائی جائے انہوں نے کہا کہ دھونس دھاندلی اور زر وزور کی 67سالہ یرغمال سیاست نے قوم کو محرومیوں اور مایوسیوں کے سوا کچھ نہیں دیا اور ان مایوسیوں اور محرومیوں کی وجہ سے شہریوں کی زندگی اجیرن بن گئی ہے ۔قوم کو ان محرومیوں اور مایوسیوں سے نکالنے کیلئے جماعت اسلامی پاکستان نے اپنے عوامی ایجنڈے کے تحت21,22,23نومبرکو مینار پاکستان سے تحریک پاکستان شروع کرنے کیلئے ملک بھر کے عوام کا تین روزہ اجتماع منعقد کیا ہے تاکہ تحریک پاکستان کے انقلابی جدوجہد کو ایک اسلامی ،خوشحال اور مستحکم پاکستان بنانے کا وہ خواب جسکے لئے1947ءمیں ہمارے لاکھوں بزرگوںنے قربانیاں دیں تھیں شرمندہ تعبیر ہوسکے ۔